what

Monday, September 7, 2026

Islamic story | The Honest Shopkeeper

 


----------------------------------------------------

ایماندار دکاندار

ایک چھوٹے سے قصبے میں عبداللہ نام کا ایک نوجوان رہتا تھا۔ اس کی مسجد کے قریب راشن کی ایک چھوٹی سی دکان تھی۔ اگرچہ اس کی دکان زیادہ بڑی نہیں تھی، لیکن وہ ہمیشہ صاف ستھری اور ترتیب سے سجی رہتی تھی۔ عبداللہ وہاں آٹا، چاول، چینی، کھجوریں، دودھ اور روزمرہ ضرورت کی دوسری اشیا فروخت کرتا تھا۔

عبداللہ نے اپنے والد سے زندگی کا ایک اہم سبق سیکھا تھا۔ اس کے والد نے اسے نصیحت کی تھی:

’’میرے بیٹے! لوگ ہمیشہ تمہارے اعمال نہیں دیکھ سکتے، لیکن اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ ایمانداری سے حلال روزی کمانا۔‘‘

عبداللہ نے اپنے والد کی یہ نصیحت کبھی نہیں بھلائی۔ وہ ہر صبح فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنی دکان کھولتا۔ کام شروع کرنے سے پہلے ’’بسم اللہ‘‘ پڑھتا اور اللہ تعالیٰ سے حلال رزق کی دعا کرتا۔

قصبے کے لوگ عبداللہ پر بہت اعتماد کرتے تھے کیونکہ وہ ایک ایماندار شخص تھا۔ وہ ہر چیز پوری تولتا اور مناسب قیمت وصول کرتا تھا۔ اگر کوئی گاہک غلطی سے اسے زیادہ پیسے دے دیتا تو وہ فوراً واپس کر دیتا۔

ایک سال گرمیوں کے موسم میں قصبے کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ تیز بارشوں کی وجہ سے سڑکیں خراب ہوگئیں اور تاجر کافی مقدار میں آٹا اور چاول قصبے تک نہ پہنچا سکے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھنے لگیں اور غریب خاندان پریشان ہوگئے۔

کچھ دکانداروں نے آٹے کی بوریاں چھپا لیں۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ چند دن بعد انہیں بہت زیادہ قیمت پر فروخت کریں گے۔ حارث نامی ایک دکاندار عبداللہ کے پاس آیا اور کہنے لگا:

’’تمہیں بھی اپنا آٹا چھپا لینا چاہیے۔ چند دن بعد لوگ اس کی تین گنا قیمت دینے کے لیے تیار ہوں گے۔ ہم بہت زیادہ پیسہ کما سکتے ہیں۔‘‘

عبداللہ نے اس کی طرف دیکھا اور جواب دیا:

’’یہ لوگ ہمارے پڑوسی ہیں۔ ان میں سے کچھ کے پاس اپنے بچوں کو کھانا کھلانے کے لیے بھی کافی رقم نہیں۔ میں ان کی مجبوری سے فائدہ کیسے اٹھا سکتا ہوں؟‘‘

حارث ہنسنے لگا اور بولا:

’’کاروبار تو کاروبار ہوتا ہے۔ اگر تم نے اب پیسے نہ کمائے تو بعد میں پچھتاؤ گے۔‘‘

ایک لمحے کے لیے عبداللہ پریشان ہوگیا۔ اس کے پاس آٹے کی صرف چند بوریاں باقی تھیں اور اسے بھی پیسوں کی ضرورت تھی۔ اس کے گھر کی چھت مرمت طلب تھی اور اس کی والدہ کے لیے دوا خریدنی تھی۔ اگر وہ حارث کی بات مان لیتا تو بہت زیادہ منافع کما سکتا تھا۔

لیکن اسے اپنے والد کے الفاظ یاد آئے:

’’اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا ہے۔‘‘

اسے یہ بھی یاد تھا کہ اسلام ہمیں ایمانداری، انصاف اور رحم دلی کا درس دیتا ہے۔ اس لیے اس نے ناجائز طور پر قیمت بڑھانے سے انکار کردیا۔

اگلی صبح آمنہ نامی ایک غریب بیوہ اس کی دکان پر آئی۔ اس کے تین چھوٹے بچے تھے اور اس کے پاس بہت کم پیسے تھے۔

اس نے پریشانی سے کہا:

’’بھائی عبداللہ! مجھے کچھ آٹا چاہیے، لیکن میں بازار کی نئی قیمت ادا نہیں کرسکتی۔‘‘

عبداللہ نے اسے معمول کی قیمت پر آٹے کی ایک بوری دے دی۔

آمنہ نے اپنے سکے گنے، مگر وہ کافی نہیں تھے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

اس نے کہا:

’’مجھے معاف کردیجیے۔ جب میرے پاس مزید پیسے ہوں گے تو میں دوبارہ آجاؤں گی۔‘‘

عبداللہ نے نرمی سے آٹے کی بوری اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا:

’’یہ لے جائیے۔ جب آپ کے لیے آسانی ہو تو باقی رقم ادا کردیجیے گا۔‘‘

آمنہ نے اس کا شکریہ ادا کیا اور دعا دی:

’’اللہ تعالیٰ آپ کو اس نیکی کا بہترین اجر عطا فرمائے۔‘‘

اگلے چند دنوں تک عبداللہ مناسب قیمت پر کھانے پینے کی چیزیں فروخت کرتا رہا۔ اس نے ہر خاندان کے لیے خریداری کی ایک حد مقرر کردی تاکہ سب لوگوں کو کچھ نہ کچھ مل سکے۔ جو خاندان خوراک خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے، عبداللہ خاموشی سے ان کی مدد بھی کرتا تھا۔

جلد ہی عبداللہ کی دکان کا سامان بہت کم رہ گیا۔ حارث دوبارہ اس سے ملنے آیا اور فخر سے اپنی کمائی ہوئی رقم دکھانے لگا۔

حارث نے کہا:

’’دیکھو! میں نے تمہیں قیمتیں بڑھانے کو کہا تھا۔ اب تمہارے پاس تقریباً کچھ نہیں بچا، جبکہ میں نے بہت زیادہ منافع کمایا ہے۔‘‘

عبداللہ کو دکھ ہوا، لیکن اس نے اطمینان سے جواب دیا:

’’دوسروں کی تکلیف سے کمایا ہوا مال حقیقی سکون نہیں دے سکتا۔ میں بڑی مگر ناجائز کمائی کے بجائے تھوڑی سی حلال آمدنی کو پسند کروں گا۔‘‘

اس رات عبداللہ اپنی بیمار والدہ کے پاس بیٹھا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ان کے لیے دوا کیسے خریدے گا اور گھر کی خراب چھت کی مرمت کیسے کروائے گا۔ اس کے باوجود اس نے صبر کیا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھا۔

اگلی صبح خوراک سے بھرے کئی ٹرک قصبے میں پہنچ گئے۔ سڑکوں کی مرمت ہوچکی تھی اور خوراک کی قلت ختم ہوگئی تھی۔ اسی دن ابراہیم نامی ایک مال دار تاجر عبداللہ کی دکان پر آیا۔

اس نے کہا:

’’میں نے تمہاری ایمانداری اور رحم دلی کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے۔ جب دوسرے لوگ غریبوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھا رہے تھے، تم ان کی مدد کررہے تھے۔ مجھے اپنے ایک بڑے اسٹور کے لیے ایک قابلِ اعتماد نگران کی ضرورت ہے۔ کیا تم میرے ساتھ کام کرنا پسند کرو گے؟‘‘

عبداللہ یہ سن کر حیران رہ گیا۔ ابراہیم نے اسے اچھی تنخواہ کی پیش کش کی اور اسے اپنی دکان چلانے کی اجازت بھی دی۔ عبداللہ نے پہلی تنخواہ سے اپنی والدہ کے لیے دوا خریدی اور گھر کی چھت کی مرمت کروائی۔

دوسری طرف حارث کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ اس نے خوراک چھپا کر مہنگے داموں فروخت کی تھی تو انہوں نے اس پر اعتماد کرنا چھوڑ دیا۔ خوراک کی قلت ختم ہونے کے بعد بھی بہت سے لوگ اس کی دکان پر نہ آئے۔

آخرکار حارث کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ ایک شام وہ عبداللہ کے پاس آیا اور کہنے لگا:

’’میں لالچی اور بے انصاف ہوگیا تھا۔ میں نے صرف پیسوں کے بارے میں سوچا اور دوسروں کی ضروریات کو بھول گیا۔ اب میں لوگوں کا اعتماد کھو چکا ہوں۔‘‘

عبداللہ نے اسے برا بھلا نہیں کہا۔ اس نے نرمی سے جواب دیا:

’’غلطی درست کرنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کرو، جو رقم ناجائز طور پر لی ہے اسے واپس کرو اور آئندہ لوگوں کے ساتھ ایمانداری سے پیش آؤ۔‘‘

حارث نے عبداللہ کی نصیحت پر عمل کیا۔ اس نے سچے دل سے توبہ کی اور قصبے کے لوگوں سے معافی مانگی۔ ان کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنا آسان نہیں تھا۔ تاہم، وہ صبر کے ساتھ ایمانداری سے کاروبار کرتا رہا۔ آہستہ آہستہ لوگوں نے دوبارہ اس پر اعتماد کرنا شروع کردیا۔

عبداللہ کی دکان ترقی کرتی رہی، لیکن کامیابی نے اسے مغرور نہیں بنایا۔ وہ عاجزی اختیار کرتا، غریبوں کی مدد کرتا اور ہر گاہک کے ساتھ انصاف سے پیش آتا تھا۔ جب کوئی اس کی تعریف کرتا تو وہ جواب دیتا:

’’ہر نعمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ہمیں اپنی نعمتوں کو دوسروں کی مدد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔‘‘

قصبے کے لوگوں نے عبداللہ سے ایک اہم سبق سیکھا کہ دولت صرف مال و زر کا نام نہیں۔ اصل دولت ایمانداری، دل کا سکون، ضرورت مندوں کی دعائیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔

اخلاقی سبق

ہمیں ہر حال میں ایماندار رہنا چاہیے، خواہ بے ایمانی زیادہ فائدہ مند کیوں نہ دکھائی دے۔ مشکل وقت میں دوسروں کی مدد کرنی چاہیے، حلال طریقے سے روزی کمانی چاہیے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھنا چاہیے۔ پیسہ کھو کر دوبارہ حاصل کیا جاسکتا ہے، لیکن اعتماد اور اچھا کردار انمول ہوتے ہیں۔

--------------------------------------------------------

The Honest Shopkeeper

In a small town surrounded by green fields, there lived a young man named Abdullah. He owned a small grocery shop near the town’s mosque. His shop was not very large, but it was always clean and well-organized. Abdullah sold flour, rice, sugar, dates, milk and other daily necessities.

Abdullah had learned an important lesson from his father.

“My son,” his father had once told him, “people may not always see what you do, but Allah sees everything. Always earn your living honestly.”

Abdullah never forgot these words. Every morning, he opened his shop after offering the Fajr prayer. Before starting his work, he said “Bismillah” and prayed for lawful earnings.

The people of the town trusted Abdullah because he was honest. He weighed everything correctly and never charged more than the fair price. If a customer gave him extra money by mistake, he immediately returned it.

One summer, the town faced a serious shortage of food. Heavy rain had damaged the roads, and the traders could not bring enough flour and rice into the town. The prices began to rise, and poor families became worried.

Some shopkeepers hid their bags of flour. They planned to sell them later at very high prices. One shopkeeper named Haris came to Abdullah and said, “You should hide your flour too. In a few days, people will pay three times its normal price. We can make a lot of money.”

Abdullah looked at him and replied, “These people are our neighbours. Some of them do not have enough food for their children. How can I take advantage of their need?”

Haris laughed at him. “Business is business,” he said. “If you do not make money now, you will regret it.”

For a moment, Abdullah became worried. He had only a few bags of flour left, and he also needed money. The roof of his house required repairs, and his mother needed medicine. He could earn a great profit by following Haris’s advice.

However, Abdullah remembered his father’s words: “Allah sees everything.”

He also remembered that Islam teaches Muslims to be honest, fair and merciful. Therefore, he decided not to increase the price unfairly.

The next morning, a poor widow named Amina came to his shop. She had three young children and very little money.

“Brother Abdullah,” she said nervously, “I need some flour, but I cannot pay the new market price.”

Abdullah gave her a bag of flour at the usual price.

Amina counted her coins, but they were not enough. Her eyes filled with tears.

“I am sorry,” she said. “I will return when I have more money.”

Abdullah gently pushed the bag towards her.

“Take it,” he said. “You can pay me later when it becomes easy for you.”

Amina thanked him and prayed, “May Allah reward you for your kindness.”

During the next few days, Abdullah continued selling food at a fair price. He limited the amount each family could buy so that everyone could receive something. He also quietly gave food to families who could not afford it.

Soon, Abdullah’s stock became very low. Haris visited him again and proudly showed him the money he had earned.

“Look at this!” Haris said. “I told you to raise your prices. Now you have almost nothing left, while I have made a great profit.”

Abdullah felt sad, but he answered calmly, “Money earned through another person’s suffering cannot bring true peace. I would rather have a small lawful earning than a large unfair profit.”

That night, Abdullah sat beside his sick mother. He wondered how he would buy her medicine and repair the damaged roof. Nevertheless, he remained patient and placed his trust in Allah.

The following morning, several trucks arrived in the town. The roads had been repaired, and the food shortage was finally over. A wealthy merchant named Ibrahim entered Abdullah’s shop.

“I have heard about your honesty and kindness,” Ibrahim said. “While others took advantage of the poor, you helped them. I need a trustworthy person to manage one of my large stores. Would you like to work with me?”

Abdullah was surprised. The merchant offered him a good salary and allowed him to continue operating his own shop. With his first payment, Abdullah bought medicine for his mother and repaired the roof of their house.

Meanwhile, Haris faced difficulties. When people discovered that he had hidden food and charged unfair prices, they stopped trusting him. Even after the shortage ended, many customers refused to visit his shop.

Haris finally realized his mistake. One evening, he went to Abdullah and said, “I was greedy and unfair. I thought only about money and forgot about the needs of others. Now I have lost everyone’s trust.”

Abdullah did not insult him. Instead, he said, “It is never too late to correct a mistake. Ask Allah for forgiveness, return any money you took unfairly and treat people honestly.”

Haris followed his advice. He sincerely repented and apologized to the townspeople. At first, it was difficult for him to regain their trust. However, he remained patient and dealt honestly with everyone. Slowly, the people began to trust him again.

Abdullah’s shop continued to grow. Yet success did not make him proud. He remained humble, helped the poor and treated every customer fairly. Whenever someone praised him, he replied, “Every blessing comes from Allah. We must use our blessings to help others.”

The people of the town learned an important lesson from Abdullah: wealth is not only the money a person possesses. True wealth includes honesty, a peaceful heart, the prayers of those we help and the pleasure of Allah.

Moral

Always be honest, even when dishonesty appears more profitable. Help people in times of difficulty, earn through lawful means and place your trust in Allah. Money may be lost and regained, but trust and good character are priceless.

--------------------------------------------------------------------------------------------

Islamic story, Islamic moral story, Urdu Islamic story, ایماندار دکاندار, اسلامی کہانی, سبق آموز کہانی, اخلاقی کہانی, بچوں کی اسلامی کہانی, حلال رزق, ایمانداری کا سبق, honesty in Islam, halal rizq, Islamic reminder, Islamic education, Muslim kids story, Urdu moral story, Islamic values, trust in Allah, Islamic motivational story, Islamic short story, heart touching Islamic story, emotional Islamic story, best Islamic story, Muslim family story, Islamic storytelling, Islamic video Urdu, Urdu kahani, sabaq amoz kahani, Islami waqia, deen ki baatein, Islamic content, viral Islamic video, Islamic reels, Islamic shorts, Muslim motivation, Islamic post, good deeds in Islam, helping the poor, honesty story, moral lesson for children

No comments: