🌙 تین آدمی اور غار
ایک مرتبہ تین آدمی سفر کر رہے تھے۔ راستے میں شدید بارش شروع ہوگئی، تو وہ پناہ لینے کے لیے ایک غار میں داخل ہوگئے۔
اچانک پہاڑ سے ایک بہت بڑا پتھر گرا اور غار کا راستہ بند ہوگیا۔ انہوں نے پتھر کو ہٹانے کی بہت کوشش کی، لیکن وہ اسے ہٹا نہ سکے۔
ان میں سے ایک نے کہا:
"ہمیں اس مصیبت سے صرف یہی چیز نجات دلا سکتی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے ان نیک اعمال کے ذریعے پکاریں جو ہم نے صرف اس کی رضا کے لیے کیے تھے۔"
🌿 پہلے شخص کا عمل
پہلے شخص نے اپنے والدین کے ساتھ نیکی کو یاد کیا۔ وہ ہمیشہ اپنے والدین کو شام کا دودھ پہلے پلایا کرتا تھا۔
ایک رات وہ دیر سے گھر پہنچا تو اس کے والدین سو چکے تھے۔ وہ انہیں جگانا نہیں چاہتا تھا، اس لیے دودھ کا پیالہ ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا۔ اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اگر اس نے یہ کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا تھا تو اس مصیبت کو دور فرما۔
پتھر کچھ ہٹ گیا۔
🌿 دوسرے شخص کا عمل
دوسرے شخص نے اپنی ایک ایسی نیکی کو یاد کیا جس میں اس نے گناہ سے خود کو روک لیا تھا۔
اسے گناہ کرنے کا موقع ملا، لیکن اس نے اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے گناہ سے خود کو روک لیا اور وہاں سے چلا گیا۔
اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اگر اس نے یہ کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا تھا تو ان کی مشکل آسان فرما۔
پتھر مزید ہٹ گیا۔
🌿 تیسرے شخص کا عمل
تیسرے شخص نے ایک مزدور کا واقعہ یاد کیا۔ اس مزدور نے اپنی اجرت لیے بغیر کام چھوڑ دیا تھا۔
اس شخص نے اس کی اجرت اپنے پاس محفوظ رکھی اور اسے کاروبار میں لگا دیا، یہاں تک کہ وہ مال بہت بڑھ گیا۔
کچھ عرصے بعد وہ مزدور واپس آیا تو اس شخص نے اسے اس کی پوری اجرت اور اس سے حاصل ہونے والا مال بھی دے دیا۔
اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اگر اس نے یہ کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا تھا تو ان کی مشکل دور فرما۔
چٹان مکمل طور پر ہٹ گئی اور تینوں آدمی بحفاظت غار سے باہر نکل آئے۔
🌸 سبق
اس واقعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اخلاص کے ساتھ کیے گئے نیک اعمال بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنی چاہیے، اللہ کے خوف سے گناہوں سے بچنا چاہیے، لوگوں کے حقوق ادا کرنے چاہئیں اور ہر نیک کام صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
📖 حوالہ: صحیح البخاری، حدیث 2272 — صحیح مسلم، حدیث 2743
🌙 The Three Men and the Cave
Once, three men were travelling together. On their way, heavy rain began to fall, so they entered a cave to take shelter.
Suddenly, a huge rock fell from the mountain and blocked the entrance of the cave. They tried to move it, but they could not.
One of them said, “Nothing can save us except that we call upon Allah by mentioning righteous deeds that we sincerely did for His sake.”
The first man remembered an act of kindness toward his parents. He used to give them their evening milk before giving it to his own family. One night, he came home late and found his parents asleep. He waited beside them with the milk in his hands until they woke up. He asked Allah to accept this deed if he had done it sincerely for Him. The rock moved slightly.
The second man remembered that he had once avoided a sinful act even though he had the opportunity to do it. He chose to fear Allah and walked away. He asked Allah to accept that deed if he had done it sincerely for Him. The rock moved again.
The third man remembered that he had once employed a worker who left without taking his wages. The man kept the worker's wages safe and invested them until they became a large amount. When the worker returned, he gave him everything that had grown from his wages. He asked Allah to accept this deed if he had done it sincerely for Him.
The rock moved completely, and the three men were able to leave the cave safely.
🌿 Lesson
This story teaches us that sincere good deeds have great value in the sight of Allah. We should help our parents, avoid sins because we fear Allah, fulfill people's rights, and always try to do good deeds sincerely.
Reference: Sahih al-Bukhari, Hadith 2272; Sahih Muslim, Hadith 2743.

No comments:
Post a Comment