Prophet Yusuf’s Patience and Forgiveness
-------------------------------------------------------------------------------------------------
Prophet Yusuf’s Patience and Forgiveness
Prophet Yusuf عليه السلام once saw a dream: eleven stars, the sun, and the moon were bowing to him. His father, Prophet Ya‘qub عليه السلام, understood that Allah had a special future for Yusuf.
Yusuf’s brothers became jealous. They threw him into a deep well and told their father that a wolf had eaten him. Travelers later found Yusuf and took him to Egypt, where he was sold.
As a young man, Yusuf was falsely accused and imprisoned—even though he had done nothing wrong. Yet he remained patient, faithful, and kind. In prison, Allah gave him the ability to interpret dreams.
Years later, Egypt’s king had a troubling dream. Yusuf explained that seven years of abundant harvests would be followed by seven years of severe famine. Impressed by his wisdom and innocence, the king released him and gave him an important position managing the country’s food supplies.
During the famine, Yusuf’s brothers came to Egypt seeking food. They did not recognize him, but Yusuf recognized them. Although they had harmed him terribly, he chose forgiveness. He said:
“No blame will there be upon you today. May Allah forgive you.”
— Qur’an 12:92
Eventually, Yusuf was reunited with his beloved father, and his childhood dream came true.
Lesson: Jealousy can lead people toward injustice, but patience, trust in Allah, and forgiveness bring lasting goodness. Allah can turn even painful hardships into part of a greater plan.
You can read the complete account in Surah Yusuf, chapter 12 of the Qur’an.
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------
حضرت یوسفؑ کا صبر اور درگزر
حضرت یوسف علیہ السلام نے ایک مرتبہ خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند اُن کے سامنے سجدہ کر رہے ہیں۔ اُن کے والد، حضرت یعقوب علیہ السلام، سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسفؑ کے لیے ایک خاص مستقبل مقرر فرمایا ہے۔
حضرت یوسفؑ کے بھائی اُن سے حسد کرنے لگے۔ انہوں نے حضرت یوسفؑ کو ایک گہرے کنویں میں ڈال دیا اور اپنے والد سے کہا کہ انہیں بھیڑیا کھا گیا ہے۔ بعد میں ایک مسافر قافلے نے حضرت یوسفؑ کو کنویں سے نکالا اور مصر لے گیا، جہاں انہیں فروخت کر دیا گیا۔
جوانی میں حضرت یوسفؑ پر جھوٹا الزام لگایا گیا اور بے قصور ہونے کے باوجود انہیں قید کر دیا گیا۔ لیکن وہ صابر، اللہ پر ایمان رکھنے والے اور نیک رہے۔ قیدخانے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں خوابوں کی تعبیر بتانے کا علم عطا فرمایا۔
کئی سال بعد مصر کے بادشاہ نے ایک پریشان کن خواب دیکھا۔ حضرت یوسفؑ نے بتایا کہ سات سال تک بھرپور پیداوار ہوگی اور اس کے بعد سات سال شدید قحط آئے گا۔ بادشاہ حضرت یوسفؑ کی دانائی اور بے گناہی سے متاثر ہوا۔ اُس نے انہیں قید سے آزاد کر دیا اور ملک کے غذائی ذخائر کی نگرانی کی اہم ذمہ داری سونپ دی۔
قحط کے دوران حضرت یوسفؑ کے بھائی غلہ لینے مصر آئے۔ وہ حضرت یوسفؑ کو پہچان نہ سکے، لیکن حضرت یوسفؑ نے انہیں پہچان لیا۔ اگرچہ اُن کے بھائیوں نے اُن کے ساتھ بہت برا سلوک کیا تھا، پھر بھی حضرت یوسفؑ نے انہیں معاف کر دیا۔ انہوں نے فرمایا:
’’آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔ اللہ تمہیں معاف فرمائے۔‘‘
— القرآن، سورۂ یوسف 12:92
آخرکار حضرت یوسفؑ اپنے پیارے والد سے دوبارہ مل گئے اور اُن کا بچپن کا خواب پورا ہوگیا۔
سبق: حسد انسان کو ظلم اور ناانصافی کی طرف لے جا سکتا ہے، لیکن صبر، اللہ پر بھروسا اور معاف کر دینا دائمی بھلائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سخت اور تکلیف دہ حالات کو بھی اپنے عظیم منصوبے کا حصہ بنا کر خیر میں بدل سکتا ہے۔
حضرت یوسفؑ کا مکمل واقعہ قرآنِ مجید کی بارہویں سورت، سورۂ یوسف میں پڑھا جا سکتا ہے۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Prophet Yusuf story, Hazrat Yusuf story in Urdu, Prophet Yusuf patience, Prophet Yusuf forgiveness, Surah Yusuf story, Quranic stories, Islamic stories in Urdu, Hazrat Yaqub, Yusuf and his brothers, Prophet Yusuf in Egypt, lessons from Surah Yusuf, Islamic motivational story, حضرت یوسفؑ کا واقعہ، حضرت یوسفؑ کی کہانی، سورۂ یوسف، قرآن کے واقعات، اسلامی کہانیاں، صبر اور معافی، اللہ پر بھروسا، حضرت یعقوبؑ، یوسفؑ اور ان کے بھائی، قرآن سے سبق
